About Me

کوئٹہ, بلوچستان, Pakistan
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ! میرا نام سید مجاہد گیلانی ہے۔ سادات گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔خدمت خلق کرنے کی توفیق اللہ سے مانگتا ہوں، اپنے رب کی عبادت میں مقررہ اوقات صرف کرنے کی کوشش کرتا ہوں، سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے چار سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔عرق النساء کا مریض بھی ہوں تمام دوستوں اور قارئین سے درخواست کرتا ہوں کہ تمام مریضوں کے لیئے دعائے شفا اللہ سے ضرور مانگیں اور اس میں مجھے بھی یاد رکھیں ۔ فارغ اوقات میں کمپیوٹر پر کچھ اچھا لکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ تمام ماہرین کمپیوٹر سے گزارش ہے کہ وہ اس اچھائی میں میری مدد فرمائیں اور راہنمائی فرمائیں کیوں کہ کمپیوٹر پر کام کے سلسلے میں انجان ہوں میری راہنمائی فرما کر اچھائی کے ان کاموں میں شریک ہو کر وہ بھی نیکیاں کما سکتے ہیں۔ میرے ساتھ رابطہ میرے موبائل نمبر پاکستان: 03312193584 یا 03048353664 پر فرما سکتے ہیں۔ اللہ آپ سب کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے ۔آمین یا رب العالمین۔

منگل، 14 مئی، 2019

نماز کے احکامات


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


فرائض نماز
نماز کے تیرہ(13) فرض ہیں۔ ان میں سے سات فرض نماز شروع کرنے سے پہلے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ان کو شرائط نماز بھی کہتے ہیں اور چھ فرض دورانِ نماز ادا کئیے جاتے ہیں جن کو ارکانِ نماز کہتے ہیں۔
فرائض نماز:1۔بدن کا پاک ہونا،2۔ کپڑوں کا پاک ہونا 3۔جگہ کا پاک ہونا ، یعنی جس جگہ نماز ادا کی جائے وہ پاک  صاف ہو 4۔ ستر کا چھپانا ( مرد کا ستر ناف سے گھٹنے تک کا جسم ہے مگر عورت کا سارا جسم ستر ہے۔ صِرف چہرہ، گٹّوں تک ہاتھ اور ٹخنے تک پاؤں کھُلا رہے) 5۔ نماز کا وقت ہونا 6۔ قبلہ کی طرف مُنہ کرنا  
7۔دل میں نماز کی نیت کرنا 8۔تکبیر تحریمہ کہنا  یعنی اللہ اکبر کہ کہ نماز شروع کرنا۔ 12۔ دونوں سجدے کرنا 
13۔ قعدہ آخیر میں التّحیات پڑھنے کی مقدار بیٹھنا۔
واجبات نماز
واجبات نماز چودہ ہیں:۔
1۔فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں کو قراءت کے لیئے مقرر کرنا   2۔ فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سُورۃ فاتحہ پڑہنا  3۔ فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور واجب، سُنّت اور نفل نمازوں کی تمام رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی سُورت یا ایک بڑی آیت یا چھوٹی تین آیتیں پڑھنا 4۔ سُورۃ فاتحہ کو سُورت سے پہلے پڑھنا 5۔ قرات،رکوع،سجدوں اور رکعتوں میں ترتیب قائم رکھنا 6۔قہمہ کرنا یعنی رکُوع سے اُٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا 7۔جلسہ یعنی دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا 8۔ تعدیل ارکان یعنی رکُوع سجدہ وغیرہ کو اطمینان سےاچھی طرح ادا کرنا 9۔ قعدہ اُولٰی  یعنی تین اور چار رکعت والی نماز میں دو رکعتوں کے بعد تشہُد کی مقدار بیٹھنا  10۔دونوں قعدوں میں تشہُد پڑھنا  11۔امام کا فجر مغرب ، عشاء، جمعہ، عیدین، تراویح اور رمضان المبارک کے وتروں میں آواز سے قراءت کرنا اور ظہر اور عصر وغیرہ نمازوں میں آہستہ پڑھنا   12۔ لفظ  سلام کے ساتھ نماز سے علٰیحدہ ہونا  13۔ نماز وِتر میں دُعائے قنُوت کے لیئے تکبیر کہنا اوردعائے قنُوت پڑھنا    14۔دونوں عیدوں کی نماز میں زائد تکبیریں کہنا۔
سُننِ نماز
 نماز میں اکیس(21) سنتیں ہیں:
1۔ تکبیر تحریمہ کہنے سےپہلے دونوں ہاتھ کا نوں تک اُٹھانا    2۔ دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں اپنے حال میں کھُلی اور قبلہ رُخ رکھنا  3۔  تکبیر کہتے ہُوئے سَر کو نہ جھُکانا   4۔ امام کا تکبیر تحریمہ اورایک رکن سے دُوسرے میں جانے کی تمام تکبیریں بقدر حاجت بلند آواز سے کہنا   5۔ سیدھے  ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھنا  
6۔ ثناء پڑھنا   7۔تعّوذ یعنی اعوذ باللہ آخیر تک پڑھنا   8۔ بِسمِ اللہِ الرّحمٰن الرّحیم پڑھنا    9۔فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سُورۃ فاتحہ پڑھنا  10۔ آمین کہنا    11۔ ثناء، تعّوذ، بسم اللہ اور آمین سب کو آہستہ پڑھنا    12۔ سنت کے موافق قراءت کرنا یعنی جا میں نماز میں جس قدر قرآن پڑھنا سُنّت ہے، اس کے موافق پڑھنا    13۔ رکُوع اور جدے میں کم از کم تین بار تسبیح پڑھنا    14۔ رکوع میں سَر اور پیٹھ کو ایک سیدھ میں برابر رکھنا اور دونوں ہاتھوں کی کھلی اُنگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑنا  15۔ قومہ میں امام کو سَمِع اللہُ لِمَن حَمَدہ اور مقتدی کو رَبَّنا لَکَ الحَمد کہنا اور منفرد کو تَسمِیع اور تَحمِید دونوں کہنا   16۔سجدے میں جاتے وقت پہلے دونوں گھٹنوں پھر دونوں ہاتھ اور پھر پیشانی رکھنا   17۔ جلسہ اور قعدہ میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور سیدھے  پاؤں کو اس طرح کھڑا رکھنا  کہ اس کی اُنگلیوں کے سِرےقبلے کی  طرف رہیں اور ہاتھ رانوں پر رہیں۔   18۔تشہُّد میں اَشہَدُ اَن لَّااِلٰہَ اِلاَّ اللہُ پر کلمہء شہادت کی اُنگلی سے اشاری کرنا   19۔ قعدہء اخیر میں تشہُّد کے بعد  دُرود شریف پڑھنا    20۔ درُود شریف کے بعد دُعا پڑھنا    21۔ پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف سلام پھیرنا۔
مُستحّباتِ نماز
نماز میں پانچ چیزیں مُستحِب ہیں:
1۔   تکبیر تحریمہ کہتے وقت آستینوں سے دونوں ہتھیلیاں نکال لینا    2۔رکوع اور سجدے میں منفرد کو تین مرتبہ سے زیادہ تسبیح کہنا    3۔قیام کی حالت میں سجدے کی جگہ جگہ پر اور رکوُع کی حالت میں قدموں کی پیٹھ پر ،جلسہ اور قعدہ میں اپنی گود پر اور سلام کے اوقت اپنے مونڈھوں پر نظر رکھنا   4۔ کھانسی کو اپنی طاقت بھر نہ آنے دینا   5۔جمائی میں مُنھ بند رکھنا اور کھُل جائے تو قیام کی حالت میں سیدے ہاتھ اور باقی حالتوں میں بائیں ہاتھ کی پُشت  سے مُنھ چُھپا لینا۔ 

مُفسدات نماز
مندرجہ اٹھارہ باتوں سے نماز ٹُوٹ جاتی ہے:
1۔   نماز میں کلام کرنا، چاہے قصداً ہو یا بھُول کر ، تھوڑا ہو یا بہت ہر صُورت مین نماز ٹُوٹ جاتی ہے۔
2۔سلام کرنا یعنی کسی شخص کو سلام کے قصد سے سلام یا السّلام ُ علیکُم یا اِسی جیسا کوئی اور لفظ کہنا۔    3۔سلام کا جواب دینا یا چھینکنے والے کو یَرحَمُکَ اللہُ یا نماز سے باہر والے کسی شخص کی عُعا پر آمین کہنا   4۔کسی بُری خبر پر اِنِّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَہ رَاجِعُون پڑھنا یا کسی اچھی خبر پر اَلحَمدُلِلِہ کہنا یا کسی عجیب خبر پر سُبحَانَ اللہِ کہنا    5۔ بیماری  اور درد یا رنج کی وجہ سے آہ، اوہ یا اُف کہنا   6۔ اپنے امام کے سوا کِسی دُوسرے کو لقمہ دینا یعنی قراءت بتانا   7۔ قرآن شریف دیکھ کر پڑھنا   8۔ قرآن شریف پڑھنے میں کوئی سخت غلچی کرنا   9۔ عملِ کثیر کرنا، یعنی کوئی ایسا کام کرنا جس سے دیکھنے والے یہ سمجھیں کی یہ شخص نماز نہیں پڑھ رہا    10۔کھانا پینا قصداً  ہو یا بھُولے سےہو۔    11۔ دو صفوں کی مقدا کے برابر چلنا   12۔ قبلےکی طرف سے بِلا عُذر سِینہ پھیر لینا  13۔ ناپاک جگہ پر سجدہ کرنا    14۔ سَتر کُھل جانے کی حالت میں ایک رُکن کی مِقدار ٹھہرنا    15۔ دُعا میں ایسی چیز مانگنا جو آدمیوں سے مانگی جاتی ہے۔ مثلاً کہے یا اللہ آج مجھے سو رپے دے دے    16۔ درد یا مُصیبت کی وجہ سے اس طرح رونا کہ حرف ظاہر ہو جائیں   17۔ بالغ آدمی کا نماز میں قہقہہ مار کر یا آواز سے ہنسنا   
 18۔ امام سے آگے بڑھ جانا۔
مکرُوہات، نماز
نماز میں مندجہ ذیل 29 چیزیں مکرُوہ ہیں:
1۔    سدل یعنی کپڑے کو لٹکانا، مثلاً چادر سرَ پَر ڈال کر دونوں ک،ناے لَٹکا دینا   2۔ کپڑوں کو مَٹی سے بچانے کے لیئے ہاتھ سے روکنا یا بچانا    3۔   اپنے کپڑوں یا بدن سے کھیلنا    4۔   معمولی کپڑوں میں ( جنہیں پہن کر مجمع میں جانا پسند نہیں کرتا) نماز پڑہنا    5۔ مُنھ میں رپیہ ،پیسا یا  کوئی اور ایسی چیز رکھ کر نماز پڑھنا
6۔سُستِی اور لاپروہی کی وجہ سے ننگے سَر نماز پڑھنا   7۔پاخانہ یا پیشاب کی حاجت ہونے کی حالت میں نماز پڑھنا   8۔بالوں کو سَر پر جمع کر کے چٹلا باندھنا    9۔کنکریوں کا ہٹانا  لیکن اگر سجدہ کرنا مشکل ہو تو ایک دفعہ ہٹانے میں کوئی مضائقہ نہیں    10۔انگلیاں چٹخانا یا ایک ہاتھ کی اُنگلیاں دُوسرے ہاتھ کی اُنگلیوں میں ڈالنا
11۔کمر ،کوکھ یا کولہے پر ہاتھ رکھنا   12۔ قبلے کی طرف سے مُنھ پھیر کو یا صرف نگاہ سے ادھر اُدھر دیکھنا
13۔کُتے کی طرھ بیٹھنا یا رانیں کھری کر کے بیٹھنا اور رانوں کو پیٹ سے اور گھٹنوں کو سینے سے ملا لینا اور ہاتھوں کو زمِین پَر رَکھ لینا۔    14۔ کسی ایسے آدمی کی طرف نماز پڑھنا جو نمازی کی طرف مُنھ کر کے بیٹھا ہو   15۔ سجدے میں اپنی دونوں کلائیوں کو زمین پر بچھا لینا مَرد کے لیئے مَکرُوہ ہے   16۔ ہاتھ یا سَر کے اِشارے سے کسی کے سلام کا جواب دینا   17۔بِلا عُذر چار زانو(یعنی آلتی پالتی) مار کر بیٹھنا    18۔آنکھوں کو بند کرنا، لیکن اگر نَماز میں دل لگنے کے لیئے بَند کر لے تو مکرُوہ نہیں     19۔قَصداً یعنی جان بوجھ کر  جمائی لینا، یا روک سکنے کی حالت مین نہ روکنا     20۔امام کا محراب کے اندر کھڑا ہونا، لیکن اگرقدم محراب سے باہر ہوں تو مکرُوہ نہیں    21۔اکیلے امام کا ایک ہاتھ اُونچی جگہ پر کھڑا ہونا، مگر اس کے ساتھ مقتدی ہوں تو مَکرُوہ نہیں    22۔ایسی صف کے پیچھے اکیلے کھڑےہونا جس میں خالی جگہ ہو   23۔ ایسی  جگہ نماز پڑھنا کہ نمازی کے سَر کے اُوپر، سامنے ، دائیں طرف، بائیں طرف یاسجدے کی جگہ تصویر ہو   25آیتیں، سُورتیں یا تسبیح اُنگلیوں پر شمار کرنا   26۔ چادر یا کوئی اور کپڑا اس طرح لپیٹ کر نماز پڑھنا کہ جلدی سے ہاتھ نہ نکل سکیں    27۔نماز میں انگڑائی لینا یعنی سُستی اُتارنا    28۔عَمَامَہ کے پیچ پر سجدہ کرنا    29۔ سُنًَت کے خِلاف نماز میں کوئی کام کرنا۔
مکرُوہ اوقات
مندرجہ چھ اوات میں نماز پڑھنا مکرُوہ ہے:
1۔ زوال کے وقت    2۔غرُوب آفتاب کے وقت    3۔طلُوع آفتاب کے وقت    4۔نماز عصر کے بعد سُنَّت و نفل پڑھنا   5۔ نماز فجر کے بد اور طلُوع آفتاب سےپہلے سُنَّت و نفل پڑھنا    6۔ عید کے دن طلُوع آفتاب کے بعد اور نمازِ عیدسے پہلے سُنَّت و نفل پڑھنا۔
مکرُوہ مقامات
مندرجہ آٹھ مقامات پر نَماز پڑھنا مکرُوہ ہے:
1۔ قبرستان   2۔شارع عام   3۔کُوڑا کَباڑ پھینکنے کی جگہ   4۔مویشی خانہ   5۔ مذبح یعنی جانوروں کے ذبح کرنے کا مقام    6۔حمام یعنی غُسل خانہ    7۔ اصطبل    8۔بیت الخلاء۔
وَمَاتَوفِیقیِ اِلّا بِاللّہِ



مجھے یہاں سے ای میل کریںِ

بدھ، 8 مئی، 2019

مسواک ایک اہم سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم



مسواک سنت رسولﷺ

اللہ پاک نے ہماری ہدایت و رہنمائی کے لیئے انبیاء و رسل اور کتب سماویہ کا سلسلۃ الذہب حضرت آدم علیہ السلام سے شروع فرمایا کر ہمارے محبوب فداہ ابی و امی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید پر ختم فرما دیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی آیت (لتبین للناس) کے حکم پر عمل کرتے ہوئے مکمل تفسیر تشریح فرمانے کے ساتھ ساتھ (ما اتکم الرسول فخذوہ) کے تحت دین و شریعت کی اور بھی بہت سی باتیںبتلائی ہیں، جن پر عمل کرنے سے ایک انسان فلاح دارین و شفاعت کا مستحق ہو سکتا ہے۔
         اور اتباع سنت کی ترغیب دی کہ تم پر میری اور میرے تبیت یافتہ صحابہ( رضی اللہ عنہم) خلفاء راشدین کی سنت کو مضبوط تھامنا ضروری ہے۔ اور سنتوں کو رواج دینے کی بڑی فضیلت بیا فرمائی کہ جو فساد امت کے زمانے میں ایک سنت زندہ کرے گا، اس کو 100 شہیدوں کا ثواب دیا جائے گا۔
        ایک شہید کا خدا کے لیئے خلوص سے جان دینے والے کا اتنا ثواب ہے کہ اس کے جسم کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ فی زمانہ اہم سنتوں کے ساتھ ایک خاص، بلکہ بہت اہم سنت مسواک سے عام طور پر جو لا پرواہی و بے اعتنائی برتی جا رہی ہے، اس کو احیائے سنت کی نیت سے لوگوں کع ترغیب و توجہ دلانے کی غرض سے فضائل مسواک والی چند احادیث کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔


٭حضرت ابو ایوب انصار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  چار چیزیں پیغمبروں کی سنتوں میں سے ہیں: حیاء ، خوشبو، نکاح، مسواک۔ گویا ان سنتوں پر عمل کرنا سب نبیوں کی سنتوں کو زندہ کرنا ہے۔
٭ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میری امت مشقت میں پڑ جائے گی، تو میں ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔
٭ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : مسواک منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ تعالٰی کی خوشنودی کا سبب ہے۔
   اس وقت تو سبھی اطباء و حکماء کا مشورہ ہے کہ مسواک منہ کو بالکل صاف کرنے کے ساتھ ساتھ بدبو وغیرہ سے روکتی ہے۔ ہاضمہ کے نظام کو درست کرتی ہے۔ بلغم ، صفرہ وغیرہ کو دور کرتی ہے، 
٭ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسواک کر کے دو رکعتیں پڑہنا بگیر مسواک کے70 رکعتیں پڑہنے سے افضل ہے۔
( ہمارے پاس پاکٹ کے لیئے جگہ ہے، سیل فون کے لیئے جگہ ہے، پین کے لیئے جگہ ہے، گاڑی کی چابیوں کے لیئے جگہ ہے، دستہ گھڑی کے لیئے بھی جگہ ہے، اگر نہیں ہے تو ایک بالشت مسواک کے لیئے جگہ نہیں ہے۔


مسواک کے اخروی فوائد

٭ رب کی خوشنودی کا ذریعہ ہے  ٭فرشتے اس سے خوش ہوتے ہیں   ٭ اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے    ٭ نماز کے ثواب کو بڑہاتی ہے ٭ شیطانی وسوسے دور ہو جاتے ہیں ٭قبر میں مونس ہے

٭اس کی برکت سے قبر وسیع ہو جاتی ہے ٭ موت کے وقت کلمہ یاد دلاتی ہے٭ جسم سے روح سہولت سے نکلتی ہے٭ فرشتے مصافحہ کرتے ہیں ٭قلب کی پاکیزگی ہوتی ہے٭ مسواک کرنے والے کے لئیے حاملین عرش استغفار کرتے ہیں٭ مسواک کرنے والے کے لیئے انبیاء  علیہم السلام بھی استغفار کرتے ہیں٭ مسواک کے ساتھ وضو کر کے نماز کو جائیں تو فرشتے پیچھے چلتے ہیں٭ شیطان اس کی وجہ سے دور اور ناخوش ہوتا ہے8 مسواک کرنے والا پل صراط سے بجلی کی طرح گزر جائے گا٭ اطاعت خداوندی پر ہمت اور قوت نصیب ہوتی ہے٭نزع  میں جلدی ہوتی ہے٭جنت کے دروازے اس کے لیئے کھل جاتے ہیں٭دوزخ کے دروازے اس پر  بند کر دیئے جاتے ہیں٭ ملک الموت اس کی روح نکالنے اسی صورت میں آتے ہیں جس طرح اولیاء اللہ اور انبیا ء علیہ السلام کے پاس آتے ٭ دنیا سے رخصت ہوتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کوثرکی رحیق مختوم پینے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

مسواک کے دنیوی فوائد

٭ منہ کی پاکیزگی ٭ موت کے علاوہ ہر مرض کی شفا ء٭نگاہ کی روشنی بڑھاتی ہے٭مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے٭ بلغم کو دور کرتی ہے٭ جسم کو تندرست رکھتی ہے٭حافظہ کو قوی کرتی ہے ٭بال اگاتی ہے٭ جسم کا رنگ نکھارتی ہے٭اس پر مداومت سے غربت دور ہوتی ہے٭زبان کی فصاحت و دانش بڑہتی ہے٭کھانا ہضم کرتی ہے٭ منی کی افزائش ہوتی ہے٭ بڑھاپا جلد آنے نہیں دیتی٭کمر کو قوی کرتی ہے٭عقل کو تیز کرتی ہے٭ چہرہ کو با رونق بناتی ہے٭درد سر کو دور کرتی ہے٭ فضل رطابات کا ازالہ و اخرفج کر دیتی ہے٭داڑھ کے درد کو رفع کرتی ہے ٭دانتوں کو چمکدار بناتی ہے٭اس کی برکت سے حصول رضا میں آسانی ہوتی ہے٭ کثرت اولاد کا باعث ہے٭ قضائے حوائج میں سہولت اور مدد دیتی ہے۔

اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کو دیگر سنتوں کے ساتھ مسواک کی سنت کو بھی زندہ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے

اللہ سے ملاتے   ہیں   سنت کے راستے

سید مجاہد حسین شاہ گیلانی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





پیر، 1 اپریل، 2019

تمھارے اعمال تمھارے حاکم



 اَعمالکُم عمُالکم
" بے شک تمھارے اعمال تم پر حاکم بنائے جاتے ہیں اور جیسے تم ہوگے ویسے ہی تم پر حاکم مسلط کئے جائینگے" 
1.ارشاد باری تعالٰی ہے: ظہرَ الفسَادُفِی البَرِّ وَالبَحرِ بِمَا کَسَبَتُ اَیدِیُ النَاسِ لِیَذیُقَہمُ بَعضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَھم یَرجِعُون(الروم: 1ؑ)
ترجمہ: "خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی(اعمال) کے سبب خرابی پھیل رہی ہے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ  ان کے بعض اعمال کا مزہ انہیں چکھا دے؛ تا کہ وہ باز آجائیں"۔
ایک اور جگہ ارشاد ہے: "وَمَااَصَابَکم مِن مُّصِیبَتہٍ فَبِمَا کَسَبَتُ اَیدکُم وَ یَعفُوا عَن کَثیرٍ "(الشوریٰ:30)
ترجمہ: " اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیئے کاموں سے(پہنچتی ہے)اور بہت سارے( گناہوں) سے تو وہ(اللہ تعالی)  در گزر کر دیتا ہے۔ ان دونوں آیات سے معلوم ہوا کہ مصیبت  اور فساد کا سبب خود انسان کے اپنے کیئے ہوئے بُرے اعمال ہیں، اور یہ بھی  بوضاحت سمجھ میں آرہا ہے کہ اگر بُرے اعمال نہ ہوں تو یہ مصائب، آفات اور فسادات وغیرہ بھی نہ ہو گے۔ نتیجہ یہی نکلا کہ" نافرمانی سبب پریشانی اور فرمانبرداری سبب سکون ہے"۔
۔"وعن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إن الله تعالى يقول : أنا الله لا إله إلا أنا مالك الملوك وملك الملوك، قلوب الملوك في يدي، وإن العباد إذا أطاعوني حولت قلوب ملوكهم عليهم بالرحمة والرأفة، وإن العباد إذا عصوني حولت قلوبهم بالسخطة والنقمة، فساموهم سوء العذاب فلا تشغلوا أنفسكم بالدعاء على الملوك، ولكن اشغلوا أنفسكم بالذكر والتضرع كي أكفيكم ملوككم " . رواه أبو نعيم في " الحلية " (مشكاة المصابيح)
 ترجمہ: حضرت ابو دردداءرضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے  ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالٰی (حدیث قدسی) میں ارشاد فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میے ہاتھ(یعنی میرے قبضہء قدرت ) میں ہیں؛ لہٰذا جب میرے (اکثر) بندے میری اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں تو میں ان کے حق میں(ظالم) بادشاہوں کے دلوں کو رحمت و شفقت کی طرف پھیر دیتا ہوں۔اور جب میرے بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حق میں( عادل اور نرم خو) بادشاہوں کےدلوںکوغضب ناکی اور سخت گیری کی طرف پھیر دیتا ہوں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ(بادشاہ) ان کی سخت عقوبتوں میں مبتلا کرتے ہیں۔ اسی لیئے( ایسی صورت میں)تم اپنے آپ کو ان بادشاہوں کے لیئے بد دعا کرنے میں مشغول نہ کرو، بلکہ (میری بارگاہ میں تضرع وزاری کی کے اپنے آپ کو(میرے) ذکر میں مسغول کرو، تا کہ میں تمھارے ان بادشاہوں کے شر سے تمہیں بچاؤں۔ اس روایت کو ابو نعیم نے اپنی کتاب حلیۃ الاولیاء میں نقل کیا ہے۔
3۔حضرت حسن بصری ؒ سے منقہ ہے: " اعمالکم عُمالُکُم، وَ کَماَ تَکُونوُ ا یولی عَلیکُم" یعنی تمھارے حکمران تمھارے اعمال کا عکس ہیں۔ اگر تمھارے اعمال درست ہوں گے تو تمھارے حکمران بھی درست ہوں گے، اگر تمھارے اعمال خراب ہوں گے تو تمھارے حُکمران بھی خراب ہوں گے۔
4۔ منصور ابن الاسود ؒ کہتے ہیں کہ میں نے امام اعمش ؒ سے اس آیت ( وَ کَذالِکَ نوَلی بَعضَ الظٰلِمیِن بَعضاً) کےبارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نےفرمایا کہ میں نے صحابہ رضوان اللہ علیھم سے اس بارے میں سنا کہ: جب لوگ خراب ہو جائیں گے و ان پر بدترین حکمران مسلط ہوجائیں گے۔
5۔ امام بہیقی نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے ایک  روایت نقل کی ہےکہ: اللہ تعالٰی ہر زمانہ کا بادشاہ اس زمانہ والوں  کے دلوں کے حالات کے مطابق بھیجتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ ریایا کے ساتھ حکمرانوں کے رویہ کا تعلق باطنی طور پر لوگوں کے اعمال و کردار سے ہوتا ہے کہ اگر رعایا کے لوگ اللہ کی اطاعت و فرماںبرداری کرتے ہیں اور ان کے اعمال و معاملات بالعموم راست بازی و نیک کرداری کے پابند ہوتےہیں تو ان کا ظالم حکمران بھی ان کے حق میں عادل نرم خو اور شفیق بن جاتا ہے اور اگر رعایا کے لوگ اللہ کی سرکشی اور طغیانی میں مبتلا ہو جاتےہیں اور ان کے اعمال و معاملات عام طور پر بدکرداری کے سانچے میں ڈھل جاتےہیں تو پھر ان کا عادل و نرم خو حکمران بھی ان کے حق میں غضبناک اور سخت گیر ہو جاتا ہے؛ لہٰذا حکمران کے ظلم و ستم اور اس کی سخت گیری و انصفی پر اس کو برا بھلا کہنے اور اس کے لیئے بددعا کرنے کی بجائے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے، ایسےحالت میں اپنی بد اعمالیوں پر ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار کیا جائے، اللہ تعالٰی کے دربارمیں عاجزی و زاری کے ساتھ التجا و فریاد کی جائے اور اپنے اعمال و اپنے معاملات کو مکمل طور پر اللہ اور اس کے رسول کے حم کے تابع کر دیا جائے تاکہ رحمتِ الہٰی متوجہ ہو اور ظالم حکمران کے دل کو عدل و انصاف اور نرمی و شفقت کی طرف پھیر دے۔
كشف الخفاء ت هنداوي (2/ 149):
"كما تكونوا يولى عليكم، أو يؤمر عليكم. قال في الأصل: رواه الحاكم، ومن طريقه الديلمي عن أبي بكرة مرفوعًا، وأخرجه البيهقي بلفظ "يؤمر عليكم" بدون شك، وبحذف أبي بكرة؛ فهو منقطع. وأخرجه ابن جميع في معجمه، والقضاعي عن أبي بكرة بلفظ: "يولى عليكم" بدون شك، وفي سنده مجاهيل. ورواه الطبراني بمعناه عن الحسن: "أنه سمع رجلًا يدعو على الحجاج؛ فقال له: لا تفعل إنكم من أنفسكم أتيتم، إنا نخاف إن عزل الحجاج أو مات أن يتولى عليكم القردة والخنازير؛ فقد روي أن أعمالكم عمالكم، وكما تكونوا يولى عليكم".
وفي فتاوى ابن حجر: وقال النجم: روى ابن أبي شيبة عن منصور بن أبي الأسود قال: "سألت الأعمش عن قوله تعالى ﴿وَكَذَلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظّٰلِمِينَ بَعْضاً﴾  ما سمعتهم يقولون فيه؟ قال: سمعتهم: إذا فسد الناس أمر عليهم شرارهم". وروى البيهقي عن كعب قال: "إن لكل زمان ملكًا يبعثه الله على نحو قلوب أهله؛ فإذا أراد صلاحهم؛ بعث عليهم مصلحًا، وإذا أراد هلاكهم؛ بعث عليهم مترفيهم". فقط واللہ اعلم
مولانا طارق جمیل  صاحب کے مفید بیانات درج ذیل لنک پر ملاحظہ فرمائیں۔
https://tauheed-sunnat.com/content/allah-ki-insaan-se-mohabbat-allah-greatest

#sidebar-wrapper{ text-align:center; }

Search in the Quran
Search in the Quran:
in
Download Islamic Softwares FREE | Free Code

www.SearchTruth.com

پیر، 8 مئی، 2017

بدعات کرنےوالوں کا انجام

جواہر تاریخ اسلامی
حضرت مولانا حکیم حافظ عبدالخالق صاحب مدظلہ
یہ تو میرے ساتھی معلوم ہوتے ہیں!
قیامت کے دن ساقی کوثر شافع محشر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حوض کوثر پر کھڑے اپنے مبارک ہاتھوں سے جام بھر بھر کر اپنے امتیوں کو پلا رہے ہوں گے۔
                  سبحان اللہ! میدان محشر کی شدید گرمی میں پانی کا مل جانا، اور وہ بھی حوض کوثرجو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ لذیز اور کستوری سے زیادہ خوشبودار ہو گا، کتنی بڑی سعادت ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر سعادت یہ ہے کہ امام الانبیا ء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود پلانے والے ہوں گے۔
         ستاروں سے زیادہ روشن آبخوروں اور پیالوں کو بھر بھر کرآپ اپنی امت کے آنے  والے گروہوں کو پیش فرما رہے ہوں گے، کہ اچانک آپ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیکھیں گے کہ دور سے کچھ لوگ آ رہے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم خوش ہو جائیں گے۔، اور ان کو پانی پلانے کی تیاری میں لگ جائیں گے، اور فرمائیں گے:
         اصحابی اصحابی میرے ساتھی آ رہے ہیں، میرے ساتھی آ رہے ہیں۔
جب وہ لوگ قریب پہنچیں گے تو ان کے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان پردہ حائل ہو جائے گا۔ آپ شدت اشتیاق سے فرمائیں گے:
               اصحابی اصحابی  اے اللہ یہ تو میرے ساتھی تھے، کہاں چلے گئے۔اللہ تعالٰی فرمائیں گے:

میرے پیغمبر آپ نہیں جانتے  کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد آپ کے پہنچائے ہوئے دین میں کیا کیا بدعات جاری کر دیں؟ جس دین کو آپ نے انتہائی جانفشانی اور محنت سے پہنچایا تھا، ان ظالموں نے اس دین کا نقشہ ہی بگاڑ دیا۔ اس لیئے یہ آج آپ کے ہاتھوں سے جام کوثر پینے سے محروم کر دیئے گئے۔
اللہ تعالٰی کی طرف سے یہ جواب سن کرآپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی شدید نفرت کا اظہار فرمائیں گے۔ اور کہیں گے:
دور ہو جاؤ وہ لوگ جنہوں نے میرے بعد میرے دین کو تبدیل کر دیا۔
مزید آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ: میں اپنے بھائی عیسٰی علیہ السلام کی طرح  بارگاہ الٰہی میں یہ بھی عرض کروں گا:
ترجمہ:  کہ اے اللہ !جب تک میں ان کے اند ر رہاان کی نگرانی کرتا رہا۔اور جب تو نے مجھے اپنےپاس بلالیا، تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا ہے، اور تو ہی ہر چیز سے با خبر ہے۔   


نتائج:

1۔قیامت اور حوض کوثر کے حالات۔        
2۔بدعات کرنے والوں کا انجام بد۔
3۔ علم غیب خاصہ ء خداوندی ہے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
تحقیق و پیشکش: سید مجاہد گیلانی کوئٹہ پاکستان 

اتوار، 7 مئی، 2017

نعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم



نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
محترم جناب ماہر القادری صاحب مرحوم

         حریت کاملہ کا مبلغ اعظم  ﷺ

دماغ انساں کا ہر تخیل ہوس کی ظلمت میں گھر چکا تھا
غریب تھے ذلت سراپا، امیر تھے نخوت مجسم
ستم کی بجلی تڑپ تڑپ کر وفا کا خرمن جلا رہی تھی
رگوں میں نشتر، چھری گلے پر، ضمیر بیتاب، روح مضطر
کہ جیسے چٹکی میں کوئی لے کر گلاب کے پھول ہی مسل دے
مگر غرض تھی کسے جو سنتاحریم عشرت کے قہقہوں میں
ادھر جبیں عاجزی سراپا، ادہر نظر میں غرور باطل
امنڈ اٹھے رحمتوں کے چشمے، ابل پڑے حریت کے دریا
امارتوں کی بلندیوں نے جھکا ہی دیں خاک پر جبینیں
اتر گیا چشم خود سری سے خمار صہبائے قیصریت
ابھر کے پہنچیں بلندیوں پر غلام اقوام پستیوں سے
کھڑے کیئے ایک صف میں لا کر امیر و مفلس غلام و آقا
ادھرعمر اور بلال حبشی، جناب بوبکر اور سلماں
بتا دیا راز زندگی کا، سکھا دیئے گُر ترقیوں کے
پہاڑ کے ہو گیا مقابل جہاں کا اک اک حقیر تنکا
کئے گئے عرصہ ء جہاں میں اصول جمہوریت مدون
سلام اے مرکز اخوت، سلام اے رحمت دو عالم
صلی اللہ علیہ وسلم

تحقیق و پیشکش: سید مجاہد گیلانی کوئٹہ ممبر ( ماہنامہ تدریس القرآن کراچی پاکستان)

ذلیل جنبات کی فضاء میں ضمیر خوابیدہ ہو چکا تھا
 بیاض اخلاق منتشر تھی، نظام بزم حیات برہم
جفا کے بادل گھرے ہوئے تھے، گھٹا غلامی کی چھا رہی تھی
تباہیوں کا تھا اک مرقع،غلام قوموں کا حال بد تر
غریب پامال ہو رہے تھے جفا کے ہاتھوں کچھ اس طرح سے
یہ ہم نے مانا ستم رسیدوں کی تھیں بہت دردناک چیخیں
پلٹ چکا تھا نظام عالم،بدل چکی تھی فضائے دنیا
یہ دیکھ کر گرمئی معاصی خدا کی غیرت کو جوش آیا
فضا غلامی کی کانپ اٹھی، اک انقلاب آگیا جہاں میں
جھکی اخوت کے آستاں پر مدائن و نینوا کی سطوت
گزر گیا حریت کا طوفاں، غرور و نخوت کی چوٹیوں سے
حبیب حق کے نثار جاؤں بدل دیا یوں نظام دنیا
ادھر علی کے قریں اسامہ، ابو ہریرہ کے پاس عثماں
طلسم جبر و ستم کے توڑے، مٹا دیئے نقش ذلتوں کے
ہوئی مساوات کی وہ بارش کہ بھر دیئے جس نے دشت و صحرا
بدل گئیں نغمہ ء  طرب سے ستم رسیدوں کی آہ و شیون
سلام اے حریت کے داعی، سلام اے رحمت مجسم
صلی اللہ علیہ وسلم




e='margin-bottom:0in;margin-bottom:.0001pt; text-align:center;line-height:normal;mso-yfti-cnfc:1'>