حضرت مولانا حکیم حافظ عبدالخالق صاحب مدظلہ
وہ تو جنت کی نہروں میں غوطہ لگا رہا ہے
پیغمبر ﷺ کے زمانے میں ایک شخص حضرت معاذ بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ سے زنا کا صدور ہو گیا۔
فوری طور پر تنبہ ہوا، اور قیامت کے دن کے عذاب سے ڈر گئے، اور پیغمبرﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے اوپر حد جاری کرانےکا مطالبہ کیا، کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے اوپر حد واجب ہوگئی ہے۔ مہربانی فرما کر مجھے سزا دیجئے۔ آپ ﷺ نے اپنا منہ دوسری جانب پھیر لیا۔ انہوں نے پھر یہی مطالبہ کیا۔
جب چار دفعہ اقرار کر چکے تو آپﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کر رجم کرنے کا حکم فرمایا۔ حسب حکم نبویﷺ صحابہ ء اکرام رضی اللہ عنہم نے انہیں رجم کیا۔
بعد اذاں آپ ﷺ نے سنا کہ وہ شخص ماعز رضی اللہ عنہ کا گلہ کر رہے ہیں،
جب چار دفعہ اقرار کر چکے تو آپﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کر رجم کرنے کا حکم فرمایا۔ حسب حکم نبویﷺ صحابہ ء اکرام رضی اللہ عنہم نے انہیں رجم کیا۔
بعد اذاں آپ ﷺ نے سنا کہ وہ شخص ماعز رضی اللہ عنہ کا گلہ کر رہے ہیں،
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں